31 جولائی 2014 - 11:19
داعش کو امداد کہاں کہاں سے ملتی ہے؟

ایف ایس بی ،فیڈریل روس کی اینٹی ٹیررازم تنظیم نے اپنی لیٹیسٹ ریسرچ داعش کے بارے میں عراق کی حکومت کو سونپی ہے اور اس میں داعش کی حمایت کے راز سے پردہ اٹھایا ہے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ رییل ناینووسٹی سایٹ کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق ، ایف ایس بی ،فیڈریل روس کی اینٹی ٹیررازم  تنظیم نے اپنی لیٹیسٹ  ریسرچ داعش کے بارے میں عراق کی حکومت کو سونپی ہے اور اس میں داعش کی حمایت کے راز سے پردہ اٹھایا ہے ۔
اس رپورٹ میں ،دولت اسلامی عراق و شامامات (داعش ) کے مسلح گروہوں  کی حمایت اور ان سے رابطے کے  طریقہء کار کےبارے میں مفصل رپورٹ دی ہے جس میں اسناد و مدارک اور فوٹو ،ہوائی تصویریں اور صوتی فائلیں وغیرہ اور جی پی ایس اور جی آئی ایس کی تمام اطلاعات موجود ہیں ۔
اس اطلاعاتی رپورٹ میں آیا ہے کہ داعش کو نقدی اور غیر  نقدی اور لیجیس لیٹیکی امداد کے ذرائع اور منابع مختلف ہیں ۔سعودی  بادشاہی کی  نقدی امداد کہ جو اس ملک کے تیل کو بیچ کر فراہم کی جاتی ہے اس کو شروع میں لندن کے ایک بینک میں طارق الھاشمی کے کھاتے میں ڈالا جاتا ہے جو ایک تاجر ہے اور اس کی تصویریں  بینک کا نام اکاونٹ نمبر سب کچھ دکھایا گیا ہے ۔وہ اس امداد کو متعدد نوبتوں میں تجارتی لین دین کے عنوان سے عز الدوری کے کھاتے میں اقلیم کردستان کے بینک میں ٹرانسفر کرتا ہے ،اس میں بینک کا نام کارکنوں کی پہچان اور بینک کے کاغذات  تک حکومت عراق کو دیے گئے ہیں ،اور وہ ان پیسوں کو مختلف نوبتوں میں داعش کے افراد کو دیتا ہے ۔
حال ہی میں سعودی عرب کے چند انتہا پسند علماء نے اس ملک کے بادشاہ ملک عبد اللہ سے درخواست کی ہے کہ اس گروہ کو برکت اور رحمت سے بہرہ مند کرنے کے لیے کہ جو جہاد میں مشغول ہیں ،اس سال کی آمدنی کے ایک حصے کو ان کے روزانہ کے اخراجات سے مخصوص کیا جائے ،اور بادشاہ کی جانب سے تحفے بھی مجاہدین کے گھر والوں کو دیے جائیں ۔
مغربی ممالک اور امریکہ کی نقدی امداد بھی مختلف بینکوں کے ذریعے اقلیم کردستان کے ایک رہبر بارزانی کو دی جاتی ہے تا کہ وہ اس امداد کو تیل کے پیسوں کے عنوان سے دریافت کر کے داعش کے سربراہوں کے حوالے کرے ۔
حزب پارٹی کے نزدیکی مسلح گروہ  پیش مرگہ کی کہ جو اقلیم کردستان عراق کی ایک پارٹی ہے ذمہ داری ہے کہ وہ داعش کو ایندھن غذائی سامان ،لباس ،روز مرہ کے وسائل اور لیجس لیٹیکی وسائل فراہم کرے  کہ مغربی ممالک کی بارزانی کو دی جانے والی امداد کا ایک حصہ اس کام سے مخصوص ہے ۔
اس رپورٹ میں آیا ہے :داعش کی ضرورت کے کچھ ہتھیار ،اس گروہ کے فعال افراد کی ٹیم کے ذریعے شام کے بد امنی والے علاقوں سے عراق منتقل ہوئے ہیں ،جب کہ ان کی ضرورت کے کچھ ہتھیار موصل شہر کے ہتھیاروں کے انبار پر قبضہ کرنے سے حاصل ہوئے ہیں ،اور مصرف کے ضرورت کی دوسری چیزیں ،ہتھیاروں کے فاضل پرزے اور جدید راڈار وغیرہ ترکی کی حکومت کی ہمآہنگی سے تیار ہو کر داعش کے پاس پہونچتے ہیں ۔
گذشتہ ماہ ترکی کی حکومت نے مغربی ملکوں کی مدد سے اور ان سے رقم دریافت  کر کے ٹویوٹا کمپنی کی ۲۰۰ وانٹ گاڑیاں حاصل کیں اور ان پر ہتھیار اور مخابرات کے آلات نصب کر کے ان کو داعش کے حوالے کیا ہے ۔
داعش کی فوجی اور تسلیحاتی طاقت کا اندازہ لگانا ،اور ان کی روش اور ٹیکنیک  اور عراقیوں کی روش اور ٹیکنیک کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ،اور عراقی گروہوں اور داعش کے گروہوں کے درمیان ہتھیاروں کا توازن قائم کرنا ،ایک اور کام ہے جو ترکی کی حکومت کے سپرد کیا گیا ہے ،کہ اس سلسلے میں ترکی کی حکومت ،داعش نے جو ہتھیار ،بھاری اور ہلکے ،شام اور عراق کی فوجوں سے غنیمت کے طور پر لیے ہیں ان کو کارآمد بنانے کا کام کر رہی ہے ۔اس سے مربوط ہوائی تصویریں بھی رپورٹ میں موجود ہیں ۔
حال ہی میں ترکی کی حکومت نے ،لوگوں اور داعش کے حامیوں کے درمیان شور و ہیجان پیدا کرنے کے لیے ،ان کے لیے نقدی اور غیر نقدی امداد جمع کرنے کے لیے مراکز قائم کرنے کی اجازت دی ہے ،اور اس کام کے ذریعے اس کی کوشش یہ ہے کہ داعش کی حمایت کا واحد ذریعہ عوام کو بتائے ۔
داعش کے اطلاعاتی عناصر کی تربیتی امداد ،اور ہتھیاروں کے بارے میں لازمی بنیادی اطلاعات اور فوجی اطاعات کی صورت میں بلا واسطہ ،امداد کا کام ،اور اسی طرح عراق کے قوی اور ضعیف پہلووں کے بارے میں اطلاعات فراہم کرنے کا کام ،اردن کی حکومت کو دیا گیا ہے ،کہ جس کی جزئیات اسناد و مدارک کے ساتھ عراق کی حکومت کی تحویل میں دے دی گئی ہیں ۔   

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲